بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے عید فطر کی آمد پر خطاب کرتے ہوئے علاقائی صورت حال کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ ایک صہیونی منصوبے کے ضمن میں، نافذ ہؤا جس کا مقصد مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بدلنا اور ایران کو خطے کی اقوام کی حمایت سے روکنا تھا۔
انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا:
- میں عید فطر کی مناسبت سے مسلم اقوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اسلامی جمہوریہ کے کمانڈروں اور دوسرے شہیدوں کی شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔
- امت مسلمہ کو دشمنوں کے مقابلے میں انتہائی حساس صورت حال کا سامنا ہے۔
- اسلامی ممالک پر دباؤ اور ان کے خلاف معاندانہ اقدامات میں اضافہ ہؤا ہے، اور دشمنان اسلام ـ بالخصوص امریکہ اور صہیونی دشمن ـ سخت اور نرم جنگ کے آمیزے کے ذریعے امت کو اس قدر کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ بلا شرکت غیرے اس خطے پر مسلط ہوجائیں۔
- بعض عرب اور مسلم ممالک کی حکومتیں صہیونیوں کے حلیف بنے ہوئے ہیں، ان ہی کے مقاصد کے لئے کام کر رہے ہیں اور اپنے وسائل اور سرزمینوں کو بھی ان ہی کی خدمت کے لئے بروئے کار لا رہے ہیں۔
- یہودی اپنے کرائے کے گماشتوں سے فائدہ اٹھانے کے ماہر ہیں، اور ان کے تمام کو استعمال کرنا، جانتے ہیں۔ بعض مسلم اور عرب حکومتیں یہودیوں کے ساتھ اتحاد کے راستے پر اسقدر آگے چلے گئے ہیں کہ ان کے مظالم اور جرائم میں وسیع پیمانے پر برابر کے شریک بنے ہوئے ہیں۔
- جو حکومتیں یہودیوں کی حلیف ہیں، وہ اپنی پالسیوں کو ان ہی سے ہم آہنگ کرتی ہیں، اپنی دولت اور وسائل حتی کہ اپنی مادر وطن کو صہیونیوں کے تباہ کن اقدامات کے لئے پیش کرتی ہیں اور انہیں فوجی اڈے تک دے دیتی ہیں۔
- میں خبردار کرتا ہوں کہ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں، انہیں نقصان اور پشیمانی کے سوا کچھ بھی نصیب نہ ہوگا۔
- فلسطین کی صورت حال نازک ہے، ملت فلسطین پر یہودی مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے، مسجد الاقصی پر جارحیت جاری ہے، اور اب یہودی مسجد الاقصی کے انہدام اور اپنے مبینہ ہیکل کی تعمیر کے لئے پر تول رہے ہیں۔
- فلسطینی مقاومت اور حزب اللہ لبنان صہیونی ریاست کے مد مقابل استقامت کا عینی نمونہ ہیں، اور اسلامی جمہوریہ ایران بھی ایک آزاد اور خودمختار اسلامی نظام کا عملی نمونہ پیش کر چکا ہے۔
- اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں جکھا نہیں ہے اور مقاومت کا مسلسل حامی رہا ہے۔
- اسلام دشمن قوتیں اسلامی جمہوریہ ایران کو منظر سے ہٹانا چاہتے ہیں کیونکہ اس کو اپنے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
- دشمن مشرق وسطی کا ڈھانچہ تبدیل کرنا چاہتے ہيں، اور "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں جس کا مقصد صرف ایران نہیں بلکہ خطے کے تمام عرب ممالک ہیں۔
- گریٹر اسرائیل کا منصوبہ خطے میں صہیونی دشمن کے تمام منصوبوں کا مرکزی نقطہ ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ اسی منصوبے کے تناظر میں، اور پورے خطے کو زیر کرنے کی غرض سے، انجام پایا ہے۔
- امریکہ عرب ممالک میں اپنے اڈوں سے وسیع پیمانے میں ایران پر حملے کے لئے استعمال کر رہا ہے، اور بعض عرب ممالک نے اپنی فضائی حدود معلوماتی خدمات، نیز مالی اور سیاسی حمایت فراہم کرکے اس جارحیت میں امریکہ اور صہیونی دشمن کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
- بعض عرب ممالک کے ذرائع ابلاغ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، اور ایران کے جائز جوابی حملوں کو علاقائی ممالک کے لئے خطرہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ ایران کے یہ جوابی اقدامات جائز دفاع کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں اور ایرانی اقدامات امت مسلمہ کی حمایت کے لئے ہیں۔
- صہیونی دشمن لبنان اور فلسطین پر بھی حملے کر رہا ہے، وہ کسی سمجھوتے یا معاہدے کی پابندی نہیں کرتا اور اپنی جارحانہ پالیسیوں کو جاری رکھتا ہے۔
- امریکہ میں بھی ایران کے خلاف جارحیت کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ حملہ صہیونی دھاروں کے زیر اثر انجام کو پہنچا ہے اور یہ ٹرمپ نے اس حملے کا فیصلہ کسی جائز سیکورٹی بنیاد کے بغیر اخذ کیا ہے۔
- خطے کی صورت حال کے لئے اقوام و ممالک کی طرف سے ہوشیاری اور ذمہ داری موقف اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ دشمنوں کے خطرناک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔
تمام فوجی آپشنز میز پر ہیں
- ہم ایران، لبنان، فلسطین اور اسلامی مقدسات کے ساتھ کھڑے رہنے پر زور دیتے ہیں اور فوجی اقدام کی کسی بھی سطح پر شراکت داری کے لئے آمادگی کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم حالات کے تناسب سے کسی بھی فوجی اقدام کے لئے میدان میں آنے کے لئے تیار ہیں۔
- فوجی اقدام کی سطح پر تمام تر آپشنز میز پر ہیں۔
- ہم تمام امکانات کی بنیاد پر الرٹ ہیں اور یمن کی پیاری اور بہادر قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ مکمل طور پر تیار اور مستقل طور پر ہوشیار اور چوکس رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ